دینِ اسلام شروع سے ہی اپنی حقانیت و عقلانیت کی وجہ سے بڑی تیزی اور عمق سے پھیلا اور جاہلانہ اصولِ روابط پر خط ِبطلان کھینچا اور روابط کی بنیاد امام و امت پر رکھی کہ یہ دشمنانِ اسلام کے لیے بہت اذیت کا باعث بنا تو انہوں نے اسلام کے خلاف ہر قسم کا ہتھکنڈا استعمال کرنے کی ٹھان لی۔ جب ظاہری طور پر کامیابی حاصل نہیں کر سکے تو اسلام و اسلامی مقدسات کے لبادے میں آ کر اسلام کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے اور اسلام بمقابلہ اسلام اور قرآن بمقابلہ قرآن اور مسجد بمقابلہ مسجد کا خطرناک وسیلہ اختیار کیا اور افسوس کہ کچھ سادہ لوح اور بصیرت سے عاری مسلمان بھی ان کے چکر میں آ گئے اور مسلم امہ میں تفرقے کا موجب بنے۔