مقام معظم رہبری فرماتے ہیں کہ ہم تنظیم کے کلی طور پر مخالف نہیں ہیں۔ اگر کوئی خیال کرے کہ ہم سرے سے تنطیم کے مخالف ہیں۔ نہیں ایسے نہیں ہے بلکہ تنظیم دو قسم کی ہو سکتی ہے۔ ایک وہ ہے جو فکری، دینی، تربیتی، عقیدتی کام کرنا چاہتی ہے۔ حکومت و اقتدار کے حصول سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ صرف امت کے اندر عقیدتی اور سیاسی معرفت اور بصیرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت و قیادت سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اس قسم کی تنظیم ہو تو کوئی اشکال نہیں۔ دوسری قسم مغرب کی تقلید میں تنظیم کا وجود ہے کہ جو حکومت و اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہوتی ہے یعنی کچھ لوگ یا گروہ مل کر مختلف مالی و دیگر وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے سیاسی کشمکش اور جوڑ توڑ کرتے ہیں تاکہ اقتدار تک رسائی حاصل کرسکیں۔ دوسرے ممالک میں اس قسم کی تنظیمیں ہیں۔ ایران میں بھی ہیں اور نظام نے ان پر پابندی بھی نہیں لگائی ہوئی لیکن میں اس قسم کی حزب کا قائل نہیں ہوں۔ اس قسم کی تنظیم سازی اور پارٹی بازی اقتدار کی دوڑ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے۔