خرید بک لینک

س کن چیزوں میں تقلید نہیں ہوتی
اصول دین اور نماز کے واجب ہونے جیسے قطعی و مسلم امور میں تقلید نہیں ہے۔
س تقلید کس شخص پر واجب ہے ؟
ج جو شخص خود مجتہد نہ ہو اور اتنا علم بھی نہ رکھتا ہو کہ احتیاط کر سکے اس پر واجب ہے کہ کسی جامع الشرائط مجتہد کی تقلید کرے۔
مجتہد شخص دوسرے مجتہد کی تقلید نہیں کر سکتا بلکہ وہ خود دلیل سے مسائل کو سمجھتا ہے۔
س : تقلید کسے کہتے ہیں ؟
جواب : جامع الشرائط مجتہد کے فتاوی پر عمل کرنے کو تقلید کہا جاتا ہے۔
مجتہد کی شرائط بیان کریں ؟
ج : مجتہد کی سات شرائط ہیں ؛مرد ، عاقل ، بالغ ، عادل ، شیعہ اثنا عشری ، زندہ حلال زادہ۔
س عادل کی کیا تعریف ہے ؟
ج : عادل وہ ہوتا ہے جو تمام واجبات پر عمل کرتا ہے اور تمام حرام کاموں کو ترک کرتا ہے نیز اہل محلہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں۔

س : اعلم مجتہد کو کو کتنے طریقوں سے پہچانا جاتا ہے ؟
ج : مجتہد کو تین طریقوں سے پہچانا جاتا ہے ؟
ج : اعلم مجتہد کو تین طریقوں سے پہچانا جاتا ہے۔
خود انسان کو معلوم ہو۔
دو عالم اور عادل کسی مجتہد کی تصدیق کریں۔
علماء کا گروہ خبر دے۔
س : مجتہد کے فتوی کو جاننے کے کتنے طریقے ہیں ؟
ج :مجتہد کے فتوی کو جاننے کے تین طریقے ہیں۔
خود مجتہد سے سننا۔
دو عادل افراد سے سننا۔
اسی مجتہد کی توضیح المسائل سے دیکھنا۔
کسی قابل اعتماد فرد سے سننا۔
س فوت شدہ مجتہد کی تقلید کے بارے کیا حکم ہے ؟
ج فوت شدہ مجتہد کی تقلید جاری رکھ سکتے ہیں لیکن شروع نہیں کر سکتے۔
کیا مقلد کسی ایک یا چند مسائل میں اپنے مجتہد کے علاوہ کسی اور مجتہد کی تقلید کر سکتا ہے ؟
جی جن مسائل کو مجتہد نے احتیاط ، محل اشکال یا محل تامل کے ساتھ بیان کیا ہو ان میں کسی دوسرے مرجع کی تقلید کی جا سکتی ہے۔
بغیر تقلید کے اعمال کرنے والے کا کیا حکم ہوگا ؟
ج اگر اس کے انجام شدہ اعمال موجودہ مجتہد کے فتوی کے مطابق ہیں یا وہ جاہل قاصر تھا تو دونوں صورتوں میں اس کے اعمال صحیح شمار ہوں گے۔
س : پانی کی کتنی اقسام ہیں ؟
ج : پانی کی دو قسمیں ہیں۔
مطلق اور مضاف۔
س : آب مطلق اور مضاف کی تعریف کریں ؟
ج : خالص اور صاف پانی کو آب مطلق جبکہ کسی چیز سے ملاوٹ شدہ پانی کو آب مضاف کہا جاتا ہے۔ س : آب مطلق کی کتنی اقسام ہیں ؟
ج :آب مطلق کی پانچ اقسام ہیں۔
کر پانی ، قلیل پانی ، جاری پانی ، بارش کا پانی ، کنویں کا پانی۔
س : کر پانی کی تعریف اور مقدار بیان کریں ؟
ج : کر پانی : ایسا پانی جس کی گہرائی ، لمبائی اور چوڑائی ساڑھے تین بالشت ہو۔
اس کی مقدار 384 کلو گرام ہوتی ہے۔
س : کر پانی اور قلیل پانی دونوں حکم بیان کریں ؟
ج : قلیل پانی نجاست کے گرنے سے ہی نجس ہوجاتا ہے جبکہ کر اور جاری پانی کا نجاست کی وجہ سے جب تک رنگ ، بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو اس وقت تک نجس نہیں ہوتا۔
کر پانی کا رنگ نجاست کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے تبدیل ہوا ہو تو نجس نہیں ہوگا۔
س کر کا کچھ پانی برف باقی میں نجاست گر جائے ؟
ج باقی پانی اگر قلیل ہوا تو نجس ہوگا۔
بارش کا پانی کن شرائط سے پاک کرتا ہے ؟
ج عین نجاست موجود نہ ہو۔
بارش کا پانی نجس شدہ چیز پر سے بہہ جائے۔
کنویں کے پانی کی تعریف اور حکم کیا ہے ؟
ج ایسا پانی جو زمین سے ابلے مگر بہتا نہ ہو۔
یہ کر پانی کا حکم رکھتا ہے۔

بیت الخلاء میں جانے کے واجبی آداب کیا ہیں ؟
شرمگاہ کو ہر انسان بلکہ ممیز بچے سے چھپانا
رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ بیٹھنا۔
کن صورتوں میں مقام پاخانہ صرف پانی سے پاک ہوتا

س بیت الخلاء کے مستحبات بیان کریں ؟
سر ڈھانپنا ، داخل ہوتے ہوئے بایاں پاوں پہلے رکھیں ، باہر نکلتے ہوئے دایاں پاوں پہلے رکھیں ، بدن کا بوجھ بائیں پاوں پر رکھیں ، نماز سے پہلے اور سونے سے پہلے پیشاب کرنا۔
بیت الخلاء کے مکروہات بیان کریں ؟
ج کھڑے ہو کر ، سخت زمین یا جانوروں کی بلوں میں پیشاب کرنا ، زیادہ دیر تک بیٹھنا ، پیشاب و پاخانہ روکنا۔

کن جانوروں کا پیشاب نجس ہے ؟
ج ہر خون جہندہ رکھنے والے حرام گوشت جانور کا پیشاب و پاخانہ نجس ہے۔
کن جانوروں کا خون نجس ہے ؟
خون جہندہ رکھنے والے ہر جانور کا خون نجس ہے۔

س : کن مقامات پر پیشاب اور پاخانہ کرنا حرام ہے ؟
ج : چار مقامات پر پیشاب یا پاخانہ کرنا حرام ہے۔
بند گلی کوچوں میں۔
بغیر کسی کی اجازت کے اس کی زمین پر۔
وقف شدہ جگہ پر۔
مومنین کی قبروں پر۔

نجاسات کتنی ہیں ؟
ج : نجاسات دس ہیں۔
پیشاب ، پاخانہ ، مردار ، خون ، کتا ، سور ، کافر ، شراب ، فقاع ، نجاست خور حیوان کا پسینہ۔
پیشاب سے نجس شدہ مقام کو دو دفعہ دھونا ضروری ہے
کون سا کافر پاک ہے ؟
اہل کتاب ایسے کافر ہیں جن کا بدن پاک ہے۔ اہل کتاب کے علاوہ کافر کا پورا بدن نجس ہے۔
برتن اور لباس کو قلیل پانی سے کم از کم دو دفعہ دھونا ضروری ہے
س : مطہرات شمار کریں ؟
ج : پانی ، زمین ، سورج ، استحالہ ، انقلاب ، انتقال ، اسلام ، تبعیت ، عین نجاست کا دور ہونا ، نجاست خور حیوان کا استبراء ، مسلمان کا غائب ہونا ، ذبیحہ کے بدن سے خون کا نکل جانا۔
س : وضو کی اقسام بیان کریں ؟
ج : وضو دو قسمیں ہیں۔
ترتیبی اور ارتماسی۔
وضو کا کیا طریقہ ہے ؟
ج : وضو میں سب سے پہلے چہرے کا دھونا۔
دونوں بازووں کا دھونا۔
سر کے اگلے حصے کا مسح کرنا۔
دونوں پاوں کا مسح کر واجب ہے۔
ارتماسی وضو کا کیا طریقہ ہے ؟
ج : ارتماسی وضو کے لیے انسان وضو کی نیت سے اعضاء وضو منہ اور پھر دونوں بازووں کو پانی میں ڈبوئے اور پھر سر اور پاوں کا مسح کرے۔
س : وضو کی شرائط بیان کریں ؟
ج : وضو کی مندرجہ ذیل چند شرائط ہیں۔
پانی پاک ہو۔
پانی مطلق ہو۔
پانی مباح ہو۔
اعضائے وضو پاک ہوں۔
وضو اور نماز کے لیے وقت کافی ہو۔
قربت کی نیت سے وضو کرے۔
وضو خود کرے۔
پانی کے استعمال میں کوئی ضرر یا خوف نہ ہو۔
اعضائے وضو تک پانی پہنچنے میں کوئی مانع نہ ہو۔
ترتیب۔
موالات۔
کن چیزوں کے لئے وضو کرنا ضروری ہے ؟
ج : چند چیزوں کے لئے وضو کرنا واجب ہے۔
نماز میت کے علاوہ واجب نمازوں کے لیے۔
بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کے لئے۔
خانہ کعبہ کے واجب طواف کے لیے۔
وضو کی منت قسم یا عہد کیا ہو۔
ہر ایسا کام انجام دینے کے لیے جس کے لیے وضو ضروری ہو۔
س : کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
ج : مبطلات وضو سات ہیں۔
پیشاب ، پاخانہ ، ریح ، آنکھوں اور کانوں پر غالب آ جانے والی نیند ، دیوانگی اور مستی ، استحاضہ ، ہر ایسا کام جس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
وضو جبیرہ کی تعریف کریں ؟
ج : زخموں اور ٹوٹی ہوئی ہڈی پر لگائی گئی مرہم پٹی پر جو وضو کیا جاتا ہے اسے وضو جبیرہ کہتے ہیں۔
س : واجب غسل بیان کریں ؟
ج :
واجب غسل سات ہیں۔
جنابت ، میت ، مس میت ، حیض نفاس ، استحاضہ ، نذر عہد یا قسم کی وجہ سے
کون سے کام مجنب پر حرام ہیں ؟ ج : پانچ چیزیں مجنب حرام ہیں۔
اللہ کے اسماء حسنی کو مس کرنا۔
قرآن کے الفاظ سے جسم کے کسی حصے کو مس کرنا۔
مسجد الحرام یا مسجد نبوی میں داخل ہونا۔
ان دو مساجد کے علاوہ کسی مسجد میں ٹھہرنا۔
ان سورتوں کا پڑھنا جن میں سجدہ واجب ہوتا ہے۔
مسجد میں کوئی چیز رکھنا یا اٹھانا۔
س : کن سورتوں میں سجدہ واجب ہے ؟
ج : چار سورتوں میں سجدہ واجب ہے۔
سورہ سجدہ ، حم سجدہ ، علق اور نجم۔
س : غسل کی کتنی اقسام ہیں اور کیا طریقہ ہے ؟
ج : غسل کی دو قسمیں ہیں۔
ترتیبی اور ارتماسی۔
غسل ترتیبی کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو پاک اور صاف کیا جائے۔ پھر نیت کر کے سر اور گردن دھوئے جائیں۔ پھر دائیں حصے کو مکمل طور پر دھویا جائے۔ پھر بائیں حصے کو مکمل طور پر دھویا جائے۔
غسل ارتماسی میں اپنے آپ کو پاک صاف کر کے غسل کی نیت کے ساتھ پانی میں غوطہ لگایا جائے۔
س : میت کی نسبت کون سے امور واجب ہیں ؟
ج : مسلمان میت کو تین غسل ، کفن ، حنوط ، نماز جنازہ اور دفن کرنا میت کے ولی کے بعد دوسرے مومنین پر واجب ہے۔
س : میت کو کتنے غسل دینا ضروری ہیں ؟
ج : میت کو تین غسل دینا ضروری ہیں۔
پہلے بیری کے پتوں سے مخلوط پانی کا غسل۔
کافور سے مخلوط پانی کا غسل۔
خالص پانی سے غسل۔
حنوط کیسے انجام دیا جانا واجب ہے ؟
ج : غسل کے بعد میت کو اعضائے وضو پر کافور سے حنوط کرنا ضروری ہے۔
س : نبش قبر کا کیا حکم ہے ؟
ج : کسی مسلمان کی قبر کھولنا خواہ وہ بچہ ہو یا دیوانہ ہی کیوں نہ ہو حرام ہے لیکن اگر میت کا بدن مٹی بن چکا ہو تو نبش قبر جائز ہے۔
کن صورتوں میں نبش قبر جائز ہے ؟
ج : 8 موارد میں نبش قبر جائز ہے۔
جب غصبی زمین میں دفن کیا گیا ہو۔
غصبی کفن یا کوئی اور غصبی چیز میت کے ساتھ دفن کی گئی ہو۔
جب میت کو غسل یا کفن نہ دیا گیا ہو۔
جب کوئی اہم حق ثابت کرنا ہو۔
جہاں بے حرمتی کا خطرہ ہو۔
میت کی وصیت پر عمل کرنے کے لیے۔
تیمم کب کیا جاتا ہے ؟
ج سات موارد میں تیمم ضروری ہے
پانی نہ ہو
پانی تک رسائی نہ ہو
پانی کے استعمال میں خوف ہو
پانی کے حصول میں حرج و مشقت ہو
پانی صرف پینے کیلیے ہو
پانی سے کسی اہم یا مساوی واجب ادا کرنا ہو۔
س : تیمم کا کیا طریقہ ہے اور کب کیا جاتا ہے ؟
ج : پاک مٹی پر دونوں ہاتھوں کو مار کر پیشانی پر دائیں طرف پھیرنا پھر بائیں طرف پھیرنا ، پھر ناک کے اوپر والے حصے سے نیچے تک لے کر آنا۔
اس کے بعد بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کرنا اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کرنا۔
س : تیمم کن اشیاء پر جائز ہے ؟
ج : پاک مٹی ، ریت ، ڈھیلے ، پتھر ، جپسم ، چونا ، گرد و غبار۔

واجب نمازیں کون کون سی ہیں ؟
چھ نمازیں واجب ہیں
پنجگانہ نمازیں
نماز آیات
نماز میت
واجب طواف کی نماز
باپ کی قضا بڑے بیٹے پر
نماز اجارہ

کن افراد کا نماز جمعہ میں حاضر ہونا واجب نہیں ؟
ج چھ افراد پر نماز جمعہ واجب نہیں۔
عورت
غلام
مسافر
بیمار
دو فرسخ سے باہر شخص ۔
ایسا فرد جس کے لیے جمعہ مین حضور باعث زحمت ہو۔

نمازی کے لباس کی کون سی شرائط
ج نمازی کے لباس کی چھ شرائط ہیں :
پاک ہو
مباح ہو
مردار کے اجزاء سے بنا نہ ہو
حرام گوشت جانور کے اجزاء سے بھی نہ بنا ہو
مرد کے ریشم اور زردوزی والے کپڑے نہ ہوں
س : نماز پڑھنے کی جگہ کی کتنی شرائط ہیں ؟
ج : نماز پڑھنے کی جگہ کی سات شرائط ہیں :
مباح ہو۔
جگہ میں ٹھہراو ہو یعنی نمازی کو دائیں بائیں موڑنے گرانے والا مقام نہ ہو۔
نماز پوری پڑھ لینے کا احتمال ہو یعنی گرنے اور قبلہ رخ سے مڑنے اور خطرے والی جگہ پر نماز نہ پڑھی جائے۔
سیدھا کھڑا ہونے اور صحیح سجدہ کرنے کی جگہ ہو
نجس گیلی جگہ نہ ہو
عورت پیچھے کھڑی ہو۔
سجدے والی جگہ چار انگلیوں سے اونچی نہ ہو
مسجد کو نجس کرنا اور پاک کرنا کیا حکم
ج مسجد کو نجس کرنا حرام اور پاک کرنا واجب ہے۔
جنہیں کھایا یا پہنا جاتا ہو ان پر سجدہ صحیح نہیں ہے۔ صرف حیوانوں کی خوراک پر سجدہ صحیح ہے۔
بعض علاقوں میں جنہیں کھایا یا پہنا جاتا ہو تو صرف انہی علاقوں میں جائز نہیں۔
دوائی کے طور پر کھایا جائے تو اس پر سجدہ صحیح ہے۔
پکی مٹی والی اینٹ برتن پہ سجدہ صحیح ہے۔
خاک شفا ، مٹی ، پتھر ، گھاس ، تارکول ، کچھ نہ ہو تو اپنا لباس ۔
سجدہ گاہ پیشانی سے چپک جائے تو ضروری ہے دوسرے سجدے سے پہلے اسے جدا کیا جائے۔
ہر ایسی چیز پر سجدہ صحیح نہیں جس پر پیشانی صحیح ٹک نہ سکے۔
غیر خدا کو شکر خدا کی نیت کے علاوہ سجدہ محل اشکال ہے
مبطلات روزہ آٹھ ہیں۔
ہے۔
کھانا اور پینا
مباشرت
استمناء
خدا، پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کی طرف جھوٹی نسبت دینا
غلیظ غبار کا حلق تک پہنچانا
پورے سر کو پانی میں ڈبونا۔ بعض فقہاء اسے مبطلات روزہ میں سے قرار نہیں دیتے۔
اذان صبح تک جنابت اور حیض و نفاس کی حالت میں باقی رہنا۔ مجنب اور حیض و نفاس سے پاک ہونے والے پر ضروری ہے کہ اذان صبح سے پہلے غسل کرے اگر اذان صبح تک غسل نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔
مایع چیزوں کے ساتھ امالہ کرنا
قے کرنا
اگر مجبوری کے تحت اسے کوئی مبطل کام انجام دینا پڑے تو روزہ باطل ہوگا۔
مکروہات روزہ
عمدی مبطل کام کرنے سے قضا و کفارہ دونوں واجب
کفارہ
غلام آزاد کرنا یا ساٹھ روزے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا
ساٹھ روزے پہلے ماہ مسلسل واجب دوسرے کے احتیاط
حرام سے روزہ باطل کرے تو مستحب ہے کہ کفارہ بھی دے۔
نا قابل اعتماد کے کہنے پہ افطار کر دیا تو قضا و کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔
نیت نہ کرے ریاکاری یا نہ رکھنے کا ارادہ یا تورنے کا ارادہ کرے تو قضا واجب
پاگل عاقل یا کافر مسلم ہو جائے تو قضا واجب نہیں البتہ مسلمان ہو کر پھر کافر پھر مسلم ہو تو ایمان و کفر دونوں کے قضا واجب
قضا ایک سال موخر کرنے سے قضا و مد طعام بھی واجب
بڑا بیٹا قضا یا ایک مد طعام
روزہ سے بچنے کے لیے سفر مکروہ ہے۔
مسافر مدینہ میں مستحبی روزہ رکھ سکتا ہے
بوڑھا بوڑھی یا مریض جو روزہ نہیں رکھ سکتا روزہ واجب نہیں صرف مد طعام دے دے لیکن بعد میں صحتیاب ہو جائے تو صرف قضا واجب ہے۔
چار چیزوں سے چاند ثابت
خود آنکھ سے دیکھے
قابل اطمینان گروہ
دو عادل سالم گواہی دیں جس میں ٹکراو نہ ہو
سابقہ ماہ کے تیس دن گزر جائیں
حرام روزے
عیدین
بغیر اجازت شوہر و والد
مضر صحت حرام
مستحب ہے ماہ مبارک میں بدون روزہ مبطل کام انجام نہ دیا جائے۔
مغربین کی نماز کے بعد افطار مستحب بشرطیکہ کوئی منتظر نہ ہو یا بھوک کے سبب خشوع نہ ہو۔


خمس سات چیزوں پر واجب ہے۔
خرچہ سے زائد آمدنی پر
مہر ، دیت اور میراث پر خمس نہیں ہے۔
معدنی کانیں 15 مثقال سونے کے برابر
خزانہ
حلال حرام سے مخلوط مال
غواص موتی
مال غنیمت
ذمی کافر مسلمان سے زمین خریدے تو اس پر خمس

زکات 9 چیزوں پر واجب ہے اور ان چیزوں کے حصول پر جو خرچہ ہوا ہے وہ منہا کر کے زکات کا حساب کیا جائے گا۔
گندم جو کھجور کشمش (اجناس اربعہ) سونا چاندی اونٹ گائے بھیڑ بکری احتیاط لازم کی بناء پر مال تجارت
پہلی چار چیزوں کا نصاب 847 کلو ہے۔
سونے کا پہلا نصاب 15 مثقال سونا
دوسرا 3 مثقال کا اضافہ ہے
چاندی کا پہلا نصاب 105 مثقال چاندی
دوسرا 21 مثقال چاندی اضافہ ہے۔
اونٹ کے نصاب
5 اونٹ پر ایک بھیڑ
10 اونٹ پر 2 بھیڑیں
15 اونٹ پر 3 بھیڑیں
20 پر 4 بھیڑیں
25 پر 5 بھیڑیں
26 اونٹ پر ایک اونٹ
36 اونٹ پر

گائے کا پہلا نصاب 30 گائیں کا ایک بچھڑا دوسرے سال میں داخل ہو۔
دوسرا نصاب چالیس گائیں کا ایک بچھڑا جو تیسرے سال داخل ہو۔

بھیڑ کے پانچ نصاب ہیں۔
40 بھیڑوں پہ ایک بھیڑ
121 بھیڑوں پہ دو بھیڑیں
201 بھیڑوں پہ تین بھیڑیں
301 بھیڑوں پہ چار بھیڑیں
400 کے بعد ہر سو بھیڑوں پہ ایک بھیڑ۔
گائے اور بھینس ایک جنس شمار ہوتی ہے اونٹ کی جو قسم بھی ہو اونٹ کے حکم میں شامل ہوگی۔ اسی بھیڑ بکری اور دنبے میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔

مال تجارت پر زکات
مال تجارت پر زکات کی پانچ شرائط ہیں۔
1۔ مالک بالغ و عاقل ہو۔
2۔ مال 15 مثقال سونے کے برابر ہو۔
3۔ مال کا ایک سال گزر گیا ہو۔
4۔ تجارت کی نیت پورا سال رہی ہو۔
5۔ مال پورا سال مالک کے قبضےمیں رہا ہو۔
6۔ سارا سال اس کے خریدار بھی رہے ہوں۔

مستحقین زکات آٹھ ہیں۔
فقیر
مسکین
امام یا نائب امام یا ان کا معین کردہ فرد
کافروں اور دشمنوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے
غلام آزاد کرنے پر
مقروض کا قرض ادا کرنے پر
فی سبیل اللہ عوامی کاموں پر
مشکلات سے دوچار مسافر فرد

شرائط مستحقین
شیعہ اثنا عشری ہو
فاسق نہ ہو
زکات کو گناہ میں خرچ نہ کرے

زکات کی نیت
قربة الی اللہ
معین مال کو زکات کے ارادے سے دے
فطرہ
سال بھر کا خرچہ خود کرنے والے پہ اپنے عیال کا فطرہ واجب ہے۔
تین کلو وہ غلہ جو کھایا جاتا ہو۔

ایک فقیر کو آدھا فطرہ نہیں بلکہ پورا تین کلو ہی دیا جائے۔
غروب سے پہلے آنے والا مہمان کھانا کھائے تو میزبان پر فطرہ واجب ہے۔
غیر سید اپنا فطرہ سید کو نہیں دے سکتا۔
ضروری ہے کہ پہلے اپنے علاقے میں مستحق زکات تلاش کریں۔

برچسب: نویسنده: آراد صالحی تاريخ: دوشنبه 15 اسفند 1401 ساعت: 14:37

صفحه بندی