1 1 1 1 1 1 پر 1 1
▪️ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل امریکی سی آئی اے نے مقامی ضمیر فروشوں کی مدد سےکروایا۔
▪️ سیٹو اور سینٹو فوجی معاہدے اس شرط پر کروائے گئے کہ اگر بھارت سے جنگ ہوئی تو امریکہ پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔
▪️ 1965 پاک بھارت جنگ میں امریکہ نے پاکستان کے جنگی ساز و سامان کے سپئر پارٹس (Spare Parts) کی ترسیل بند کردی اور بھارت کا ساتھ دیا۔
▪️ 1974 میں بھارت نے نیوکلیئر ٹیسٹ کیا تو امریکہ نے پاکستان کو نیوکلیئر ٹیسٹ سے روکنے کیلئے پاکستان پر پابندیاں لگادیں۔
▪️۔ سوویت یونین کو شکست دینے کیلئے مقامی ضمیر فروش حکمرانوں کو ساتھ ملا کر پورے ملک کو اپنی جنگ کی آگ میں دھکیل دیا اور مجاہدین بنوائے گئے اور ان کی مالی امداد کی گئی۔ (جس کے تمام بُرے نتائج پاکستان آج تک بھگت رہا ہے)
▪️۔ سویت یونین سے جنگ بندی کے بعد امریکہ جن کو مجاہدین کہتا تھا انکی امداد بند کردی اور ساتھ ہی انہیں دہشتگرد کہہ کر حملے شروع کردیئے۔
▪️۔ 1989 میں پاکستان نےامریکہ سے ایف سولہ (F-16) جنگی طیارے خریدنے کیلئے324.6 ملین ڈالر زدیئے لیکن امریکہ نے پیسے لے کر ایف سولہ دینے سے انکار کردیا۔ بعد میں جہازوں کے بدلے پاکستان کو گندم بھیج دی گئی۔
▪️۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے تو امریکہ نے پاکستان پر مزید معاشی پابندیاں عائد کردیں۔
▪️۔ 2002میں ایٹمی دھماکے کرنے پر لگائی گئی پابندیاں بھارت سے اٹھا لی گئیں لیکن پاکستان سے پابندیاں نہیں اٹھائی گئیں اور یوں ایک مرتبہ پھر امریکہ نے بھارت کا ساتھ دیا۔
▪️۔ امریکہ نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں 400 سے زائد ڈرون حملے کیئے جس میں ہزاروںبے گناہ پاکستانی شہید ہوئے۔(یہ حملے اسکولوں، شادی کی تقریبات، جنازوں اور گھروں پر کیئے گئے)
▪️۔ پاک افغان بارڈر پر تعینات وطن کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو سلالہ چیک پوسٹ پر گن شپ ہیلی کاپٹر سےحملہ کرکے شہید کردیا گیا۔
▪️۔27جنوری 2011 کو لاہور میں امریکی سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے2 پاکستانی شہریوں کوسر عام گولیاں مار کر قتل کردیا جس کے خلاف پورے پاکستان میں احتجاج شروع ہوگیالیکن امریکہ با آسانی اپنے غلاموں کے ذریعے پوری پاکستانی قوم کے سامنے اسے بچالے گیا۔
▪️۔ 2 مئی 2011 کو پاکستانی سرزمین ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کے لیے بڑی بے شرمی سےپاکستانی سرزمین میں ایک آپریشن کیا گیا جس میں باقاعدہ امریکی فوجی اور ہیلی کاپٹرز شامل تھے اور پاکستان سے اس بات کی اجازت تک نہ لی گئی۔
▪️۔ جب امریکہ نے اپنے فوجی مقاصد کے استعمال کے لیے پاکستان کی سرزمین کو مانگا تو عمران خان نے کہا #Absolutely Not اور اسی طرح آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کے تحت روس دورہ کیا اور اقوام متحدہ میں روس یوکرین جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا تو یہ بات امریکہ بہادر کو پسند نہیں اور اس جرم میں وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانےکا منصوبہ بنا گیا۔
موجودہ امریکی مداخلت جس میں امریکہ کی طرف سے تحریری طور پر کہا گیا کہ عمران خان کی حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، مراسلے کے مطابق عمران حکومت کو ہٹا دیا گیا تو پھر امریکہ پاکستان کو معاف کردے گا۔ (بقول عمران خان امریکہ ہوتا کون ہے ہمیں معاف کرنے والا)
اس امریکی سازش کے منظر عام پر آنے کے باوجود، امریکہ ڈالروں کے ذریعے عمران خان حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کھلے عام مصروف عمل رہا قونصلر اور قونصل خانے کے نمائندے، وطن فروشوں سے سر عام ملاقاتیں کرتے رہے اور بالآخر 9 اور 10 اپریل کی شپ عوامی منتخب حکومت کو امریکی ڈالر اور غلاموں کے گٹھ جوڑ سے نام نہاد عدم اعتماد کے ذریعے معزول کردیا گیا۔
وطن فروش امریکی غلاموں کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے!
تمہارے اس مکروہ فعل عالمی سرمایہ داروں کی غلامی کی وجہ سے پاکستانی عوام بیدار ہو چکے ہیں تمام امریکی نمک خواروں کے چہرے سے نقاب اُٹھ چکی ہے۔ عوام جو اللہ تعالی پر بھروسہ کرکے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اب وہ کسی بھی صورت امریکہ کے غلاموں کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ اس عوامی طاقت کو ڈالر کی چمک دمک ، پروپیگنڈے ، دھونس و دھمکیوں اور ریاستی جبر سے نہیں دبایا جا سکتا۔
پاکستان پاکستانی عوام کا ہے۔۔
اور پاکستان میں پاکستانی عوام کا فیصلہ ہی قابل قبول اور قابل عمل ہو گا۔
پاکستانی عوام کسی بھی صورت میں امریکن اشاروں پہ چلنے والی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔
یہ پاکستانی عوام کی آواز ہے
امریکہ کا جو یار ہے ۔۔۔غدار ہے غدار ہے
برچسب:
نویسنده: آراد صالحی