خرید بک لینک

اسی طرح اگر نامحرم کے پاؤں کو دیکھنے کی حرمت میں شک کیا جائے کیونکہ بعض روایات میں ان کا استثناء کیا گیا ہے یا غلام کا اپنی مالکہ کے پاؤں اور پنڈلیوں کو دیکھنے کی حرمت میں بعض روایات کی وجہ سے شک کیا جائے یا عورت کی کہنی ، کلائی ، بال یا گلا دیکھنے کی حرمت میں شک یا گمان کیا جائے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ عموما بعض عورتیں ان کو عریان رکھتی ہیں اور ان سے نظر ہٹانا مرد کے لیے سخت اور دشوار ہوتا ہو تو بھی اصل جواز کے ذریعے دیکھنے کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اصل وہی حرمت ہے ۔
سابقہ اور موجودہ فقہاء کی طہارت سے لے کر دیات تک تمام ابواب و احکام میں یہی روش رہی ہے کہ اصل کا معنیٰ و مطلب وہی قاعدہ , ظاہری مراد ، ترجیحی چیز اور استصحاب ہے پس جب شریعت میں حرمت پر وہی قاعدہ موجود ہے تو اس میں اصل جواز کے ذریعے کیسے حکم لگایا جا سکتا ہے ؟
پس عمومی دلیلیں نے اصل جواز کا توڑ ہیں اور اس کی حیثیت ختم کر دیتی ہیں اور اسے جڑ سے اکھیڑ دینے والی ہیں اس لیے کہ دلیل کے ذریعے اصل کا مقام استعمال اٹھ جاتا ہے تو دلیل کی موجودگی میں میں حرمت کا شک کیسے پلٹ سکتا ہے ؟ اس لیے آپ دیکھتے ہیں کہ جب بھی چہرے اور ہاتھوں کو دیکھنے کو جائز قرار دینے والے استدلال کرتے ہیں تو وہ بجائے کہ اصل کا سہارا لیں خاص دلیل اور نص کو ہی لاتے ہیں جو ان کی نظر میں اس نگاہ کو جائز قرار دے رہی ہوتی ہے اور پھر اگر فرض کرلیں اصل جواز بھی ہو اور پھر کوئی دلیل عام حرمت کا تقاضا کرے تو اصل کسی کام کی نہیں رہے گی صاحب حدائق ان افراد میں سے ہیں جنہوں نے اس موضوع میں اصل حرمت کو قرار دیا ہے وہ خود لکھتے ہیں : شہید ثانی المسالک اور الروضة میں کہتے ہیں کہ جس طرح مرد کے لئے دیکھنا جائز ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی دیکھنا جائز ہے کیونکہ دونوں کو فریضہ برابر ہے ۔ میرے نزدیک اس میں اعتراض ہے کیونکہ دونوں مقامات میں اصل حرمت ہے اور جہاں بھی اصل حرمت ہو تو واضح دلیل کے نہ ہونے تک اس اصل سے نکلنا جائز نہیں ہوگا ۔
ہاں ایک منصف شخص کو اپنے ذہن میں نامحرم کے چہرے کو دیکھنے کے جواز میں شک پیدا ہو سکتا ہے لیکن حرمت میں شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آیات اور کثیر تعداد میں روایات کا عمومی مضمون نامحرم کی طرف کسی بھی صورت میں یعنی خواہ چہرے اور ہاتھوں کو بھی دیکھنے کو حرام اور شیطان کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر قرار دیتا ہے اس کی دلیل حرمت کی دلیلوں کے انبار کے مقابلے میں انتہائی ضعیف ہے خواہ وہ دلیل حدیث مرسل مروک ہو یا دیگر احادیث جن سے جواز کا وہم و گمان کیا گیا ہے ۔

برچسب: نویسنده: آراد صالحی تاريخ: جمعه 27 دی 1398 ساعت: 12:36

صفحه بندی