آیت اللہ مصباح یزدی
فلسفۂ سیاست کی بحث میں ایک اساسی اور اہم سوال یہ ہے کہ مسند حکومت پر بیٹھنے کا کس کو حق حاصل ہے تاکہ وہ معاشرے میں نسق و نظم برقرار کرے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ معاشرے کے امور میں کسی شخص یا گروہ کے امرونہی کرنے کا معیار کیا ہے کہ عوام کو اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ، یہ وہ بحث ہے جس کو ہم ’’حکومت کا شرعی جواز‘‘ کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں ، اسلامی نظریہ کے مطابق حاکمیت اور حکومت کا ذاتی اور اصل حق خداوند متعال کا ہے، کسی شخص یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے ، لیکن یہ کہ دلیل موجود ہوکہ خداوند عالم نے یہ حق اس کو عطا کیا ہے۔ جو دلیلیں ہمارے پاس موجود ہیں ان کے ذریعہ ہم معتقد ہیں کہ خداوند عالم نے یہ حق پیغمبر اکرمؐ اور بارہ آئمہ معصومین ؑ اور ان کے بعد غیبت امام زمانہ ؑ میں یہ حق فقیہ جامع شرائط کو عطا کیا ہے لیکن کیا دین اسلام میں یہ حق، معاشرے کے تمام افراد کو بھی حاصل ہے اس سوال کا جواب (حکومت کی شرعی جواز اور اس کی مقبولیت ) اور اسلامی حکومت میں عوام کا کردار اور نظام ولایت فقیہ کی بحث سے تعلق رکھتا ہے۔
حکومت کے شرعی جواز کا مطلب
مشروعیت سے مراد حقانیت ہے جس نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی اور ایسے عہدے کی ذمہ داری لی ہے کیا اس کو یہ حق حاصل تھا کہ اس مسند پر بیٹھے یا نہیں یعنی صرف نظر اس بات پر کہ اس کی شخصیت کیا ہے، شخصاً وہ مصلح اور عادل انسان ہے یا نہیں آیا کسی معیار اور اعتبار کی بنیاد پر ہے اس کو حکومت کا حق ہے یا نہیں ؟ اس سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے کہ وہ قوانین جو اس نے وضع کئے اور اجرا کررہا ہے اچھے اور عدالت کے ساتھ معاشرہ کی مصلحت کے لئے ہیں ، کیا اس شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ ان قوانین کو اجرا کرے؟
ہماری بحث جو مشروعیت میں ہے وہ قانون کے اجراء کی کیفیت (اور کس طرح اجراء ہورہا ہے) میں نہیں ہے ، فرض کریں کہ یہ قانون کے اجراء کرنے میں آیا ان قوانین کو صحیح اجراء کیا جارہا ہے یا قانون کو اجراء کرنے والوں کے اندر اس کی لیاقت اور صلاحیت نہیں ہے اگر یہ بھی فرض کرلیں کہ قانون اور اس کا اجرا کرنے والے افراد اچھے اور بغیر نقص و عیب کے ہوں لیکن اصل بحث یہ ہے کہ قانون کا اجرا کرنے والے کس اساس و بنیاد کی بناء پر مسند حکومت پر بیٹھے ہیں ۔
اس بحث میں مشروعیت کے مقابلہ میں غصب ہے اس اصطلاح میں ناجائز حکومت کا مطلب غاصبوں کی حکومت ہے ہم نے جو مشروعیت کی تعریف کی ہے اس بنا پر فرض یہ ہے کہ حکومت اگرچہ اچھی اور عادل ہو پھر بھی وہ غاصب اور نامشروع ہوسکتی ہے اس لئے کہ اس حکومت کو شرعی جواز حاصل نہیں ہے۔
مقبولیت
مقبولیت کا مطلب یہ ہے کہ عوام اس حکومت کو قبول کرتے ہوں اگر عوام کسی شخص یا گر وہ کی حکومت قبول کرنے کی طرف مائل ہوں اور اس شخص یا گروہ کی طرف سے حکومت کا اجرا کرنے کو قبول کرتے ہوں اور اس کے نتیجے میں ایسی حکومت تشکیل پائے ، جو عوام کی مقبولیت کے ساتھ ہو اس صورت میں حکومت اور حاکموں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے(1) وہ حکومت اور حاکم کہ جن کی حکومت کو ایک معاشرے کے عوام نے رضاء قلب کے ساتھ قبول کیا ہو(2) وہ حکومتیں اور حاکم جن کی حکومت کو عوام نے اجبار اور اکراہ کے ساتھ قبول کیا ہو، مقبولیت اس حکومت سے مخصوص ہے کہ جس کی خصوصیات پہلی قسم میں سے ہوں ۔
مشروعیت اور مقبولیت
کے درمیان رابطہ
مشروعیت اور مقبولیت کے رابطہ کو معین کرنے کے لئے اس ضابطہ کو پرکھا جائے گا جو ہم نے مشروعیت کے لئے چنا ہے واضح ہے کہ اگر حکومت کی مشروعیت کا معیار عوام کی رضایت قرار دیں یعنی ایک معاشرے کے عوام رضایت اور رغبت کے ساتھ اس حکومت کے زیر سایہ زندگی گزارنا پسند کریں ایسی صورت میں مشروعیت اور مقبولیت ایک ساتھ محسوب ہوں گی اور وہ حکومت جو شرعی جواز رکھتی ہوگی وہ مقبول بھی کہلائے گی اور اس کے برعکس ہر وہ حکومت جو مقبولیت رکھتی ہو اس کا شرعی جواز بھی ہو اگر حکومت شرعی جواز رکھتی ہو لیکن عوام کی مقبولیت نہ ہو یا یہ کہ عوام کی مقبولیت ہو لیکن شرعی جواز نہ رکھتی ہو ایسی حکومت متصور نہیں ہے۔
لیکن اگر مشروعیت کا معیار عوامی مقبولیت کے علاوہ کسی اور چیز کو قرار دیں اس وقت مقبولیت اور مشروعیت میں جدائی پائی جائے گی اور ایسی صورت میں ممکن ہے ایسے حکام یا حکومتیں پائی جائیں یا فرض کی جائیں اگرچہ وہ شرعی جواز رکھتی ہوں ، لیکن عوام کے نزدیک مقبول نہ ہوں یا اس کی برعکس ایسے حکام یا حکومتیں پائی جاسکتی ہیں کہ جو عوامی مقبولیت رکھتی ہوں ، لینک شرعی جواز نہ رکھتی ہوں۔
یعنی اگر عوام اس حکومت کو پسند کرتے ہوں لیکن مشروعیت نہ رکھتی ہو، جس کے نتیجہ میں وہ غاصب حکومت ہوگی۔